کتاب باب آیت

متّی 19

 19

 طلاق:

  1 یسُوعؔجب یہ باتیں ختم کر چُکا تو گلیل سے یردنؔکے پار یہودیہؔ کی سرحدوںمیں داخل ہوا۔  2 ایک بڑی بھیڑ اُس کے پیچھے آئی اور اُس نے اُن کے سب بیماروں کو اچھا کر دیا۔

  3 شریعت کے کچھ اُستاد اُس کے پاس آئے اور آزمانے کے لیے پُوچھنے لگے کہ کیا آدمی اپنی بیوی کو کسی بھی سبب سے طلاق دے کر چھوڑ سکتا ہے؟  4 یسُوعؔ نے اُن سے پوُچھا،  ”کیا تُم نے کلام ِمُقدس میں نہیں پڑھا؟ جس میں لکھا ہے کہ ابتدا سے خُدا نے اُنہیں مرد اور عورت بنایا۔ (پیدایش ۲: ۲۴)  5  اِس لیے مرد اپنے ماں باپ کو چھوڑے گا اور اپنی بیوی سے ملا رہے گااور دونوں ایک بدن ہوں گے۔   6  ”اِس لیے وہ دو نہیں بلکہ ایک بدن ہوں گے۔ لہٰذا جسے خُدا نے جوڑا ہے اُسے انسان جُدا نہ کرے۔“   7 اِس پر اُنہوں نے یسُوعؔ سے پوچھا، تو مُوسیٰؔ نے پھر یہ حُکم کیوں دیا ہے کہ آدمی اپنی بیوی کو طلاق دے کر چھوڑ سکتا ہے؟  8 یسُوع نے جواب میں کہا،  ”موُسیٰؔ نے تُمہارے دل کی سختی کے باعث تُمہیں اپنی بیویوںکو طلاق دے کر چھوڑ دینے کی اجازت دی ہے۔ مگرشُروع سے خُدا کی ایسی مرضی نہیں تھی۔   9  ”لیکن میں تُم سے کہتا ہوں کہ جو شخص اپنی بیوی کو حرامکاری کے سِوا کسی اور سبب سے چھوڑ دے اور کسی دُوسری سے بیاہ کر لے وہ زناکاری کرتا ہے اور جو کو ئی اُس چھوڑی ہوئی سے بیاہ کرتا ہے وہ بھی زناکر تا ہے۔“   10 شاگردوں نے یسُوعؔ سے کہا، اگر ایسا ہی ہے تو بہتر یہ ہے کہ بیاہ نہ کیا جائے۔  11 یسُوعؔ نے کہا،  ”ہر کوئی اِسے قبوُل نہیںکر سکتا سوائے اُس کے جسے خُدا کی طرف سے اِس بات کی قدرت نہ دی جائے۔   12  ”اِس لیے کچھ لوگ پیدائشی خوجے ہیں، کچھ کو خوجہ بنایا جاتا ہے اور کچھ اپنی مرضی سے آسمان کی بادشاہی کے لیے اپنے آپ کو خوجہ بناتے ہیں۔ اگر کوئی اِسے قبول کر سکتا ہے وہ قبول کرے۔“

 بچوں کو برکت دینا:

  13 ایک دن کچھ لوگ اپنے بچوں کو یسُوع ؔ کے پاس لائے کہ اُن کوہاتھ رکھ کر دُعادے۔ مگر شاگردوں نے اُنہیں ڈانٹ کر دُور رہنے کو کہا۔  14 یسُوعؔ نے اُن سے کہا،  ”بچوں کو میرے پاس آنے دو اُنہیں منع نہ کرو کیونکہ آسمان کی بادشاہی ایسوں ہی کی ہے۔   15 او ر جانے سے پہلے اُنہیں ہاتھ رکھ کر برکت دی۔

 دولت مند نوجوان:

  16 ایک شخص یسُوعؔ کے پاس آیا اور پُوچھاکہ اَ ے نیک اُستاد! ہمیشہ کی زندگی پانے کے لیے مُجھے کون سی نیکی کرنا ضروری ہے؟

  17 یسُوع ؔنے جواب میں پُوچھا،  ”تُو مُجھ سے نیکی کا کیوں پُوچھتا ہے۔ صرف ایک ہی ہے جو نیک ہے اور وہ ہے خُدا۔ لیکن اگر تُو ہمیشہ کی زندگی چاہتا ہے تو حکموں پر عمل کر۔“   18 اُس نے پُوچھا کون سے حُکم؟ یسُوعؔ نے کہا،  ”خُون نہ کر، زِنا نہ کرنا، چوری نہ کرنا، جھوٹی گواہی نہ دے۔   19  ”اپنے باپ اور ماں کی عزت کر اور اپنے پڑوسی سے اپنی مانند محبت رکھ۔“   20 اُس نوجوان نے کہاکہ میںبچپن ہی سے اِن سب پر عمل کرتا رہا ہوں۔ اَب مُجھ میں کس بات کی کمی ہے؟  21 یسُوعؔ نے جوا ب دیا،  ”اگر تُو کامل بننا چاہتا ہے تو جا اور جو کچھ تیرے پاس ہے اُسے بیچ کر غریبوں میں بانٹ دے تو آسمان پر تُجھے خزانہ ملے گا۔ اِس کے بعد آکر میرے پیچھے ہو لے۔“   22 یہ سُن کر وہ مایو س ہوا اورچلا گیا کیونکہ بُہت دولت مند تھا۔

  23 یسُوعؔ نے شاگردوں سے کہا،  ”میں تُم سے سچ کہتا ہوں کہ دولت مند کا آسمان کی بادشاہی میں داخل ہونا کتنا مُشکل ہے۔

  24  ”اُونٹ کا سُوئی کے ناکے سے گُزرنااِس سے آسان ہے کہ دولت مندآسمان کی بادشاہی میں داخل ہو۔“   25 شاگرد یہ سُن کر نہایت حیرانگی سے پُوچھنے لگے کہ پھر کون آسمان کی بادشاہی میں داخل ہو سکتا ہے؟

  26 یسُوعؔ نے اُن کی طرف دیکھا اور کہا،  ”یہ انسان سے تو ممکن نہیں مگرخُدا سے سب کچھ ممکن ہے۔“

  27 تب پطرسؔ نے اُس سے کہا، ہم تواپنا سب کچھ چھوڑ کر تیرے پیچھے آئے ہیں۔ پس ہم کو کیا ملے گا؟

  28 یسُوعؔ نے اُنہیں جواب دیا،  ”میں تُم سے سچ کہتا ہوں جب یہ دُنیا پھرنئے سرے سے بنائی جائے گی اور اِبنِ آدم اپنے پُر جلال تخت پر بیٹھے گا تو تُم جو میرے پیچھے آئے ہو میرے ساتھ بارہ تختوں پر بیٹھ کر اسرائیل کے بارہ قبیلوں کا انصاف کرو گے۔   29  ”اور جس نے میری خاطر اپنے گھروں کو، اپنے بہن بھائیوں کو، اپنے ماں باپ یا بچوں کو یا اپنے کھیتو ں کوچھوڑا ہے اُس کو سو گُناملے گا اور ہمیشہ کی زندگی کا وارث ہو گا۔   30  ”مگر بُہت سے جو او ّل ہیں آخر ہو جائیں گے اور جو آخر ہیں اوّل ہو جائیں گے۔“