کتاب باب آیت
1 2 3 4 5

یعقُوب 1

 1

  1 خُدا اور خُداوند یسوُع ؔ مسیح کے خادم یعقوبؔ کی طرف سے بارہ قبیلوں کے ایماندار یہودیوں کے نام جو جا بجا رہتے ہیںسلام۔

 ایمان اور صبر:

  2 عزیز بھائیو اور بہنو! جب تُمہیں طرح طرح کی آزمایشوں کا سامنا کرنا پڑے تو اِسے خُوشی کا موقع جانو۔  3 کیونکہ جب ایمان آزمایاجاتا ہے تو اِس سے صبر پیدا ہوتا ہے۔  4 لہٰذا صبر کو اپنے اندر پُورے طور پر کام کرنے دو تاکہ تُم مکمل اور کامل ہو جاؤ اور تُم میں کسی چیز کی کمی نہ رہے۔  5 اگر تُم میں سے کسی کے پاس حکمت کی کمی ہو تو خُدا سے مانگے جوتُمہیں فیاضی سے بغیر ملامت کئے دیتا ہے۔  6 لیکن خُدا پر پُورا بھروسا رکھ کر مانگواور کچھ شک نہ کرو۔ کیونکہ شک کرنے والا قائم نہیں رہتابلکہ سمندر کی لہروں کی مانند ہواؤں سے اِدھر اُدھر اُچھلتا پھرتا ِہے۔  7 ایسے شخص کو خُدا سے کُچھ ملنے کی اُمید نہیں رکھنی چاہیے۔  8 کیونکہ وہ خُدا اور دُنیا دونوں کا خواہش مند ہے۔ وہ دو دِلا ہے اور اپنے کسی بھی کام میں مستقل مزاج نہیں۔

 غریب اور دولت مند ایماندار:

  9 غریب بھائی یا بہن اِس بات پر فخر کریں کہ خُدا نے اُن کو چُن کر عزت بخشی ہے۔  10 وہ جو دولت مند ہیں اِس بات پر فخر کریںکہ خُدا نے اُنہیں حلیم کیاہے۔ کیونکہ وہ میدان کے پھُول کی طرح مُرجھا جائیں گے۔  11 جیسے سُورج کے طلوع ہونے پر اُس کی گرمی سے گھاس جل جاتی ہے اور پھول مُرجھا جاتا ہے اِسی طرح دولت مند بھی کام کرتے کرتے اپنی ساری دولت کے باوجود ختم ہو جائے گا۔

  12 مبارک ہے وہ جو صبر سے آزمائشوں کی برداشت کرتا ہے کیونکہ قائم رہنے پر زندگی کا وہ تاج حاصل کرے گا جس کا وعدہ خُدا نے اپنے محبت کرنے والوں سے کیا ہے۔  13 یاد رکھو! آزمائش کے وقت کوئی یہ نہ کہے کہ مُجھے خُدا آزما رہاہے۔ نہ تو خُدا بدی سے آزمایاجاسکتا ہے اور نہ ہی وہ کسی کو آزماتا ہے۔  14 بلکہ ہر شخص اپنی خواہشوں میں کھنچ کر اور پھنس کر آز مائش میں پڑتا ہے۔  15 پھر یہ خواہشیں گناہ کو جنم دیتی ہیں اور جب گناہ بڑھ جاتا ہے تو یہ موت کو جنم دیتا ہے۔

  16 عزیز بھائیواور بہنو! کسی دھوکے میں نہ رہنا۔  17 ہر اچھی اور کامل بخشش اُوپر سے یعنی ہمارے خُدا نوروں کے باپ سے ہے جس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی نہ ہی سائے کی طرح بدلتی ہے۔  18 اُس نے خود ہمیں سچائی کے کلام سے پیدا کیا تاکہ ہم اُس کی تمام مخلوقات میں پہلے پھل ہوں۔

 کلام پر عمل:

  19 عزیزبھائیواور بہنو! اِس بات کو سمجھ لو کہ ہر کوئی سُننے میں تیزہو لیکن بو لنے اور غُصّہ کرنے میں دھیما ہو۔  20 کیونکہ غُصّے سے راستبازی کے کام نہیں ہو سکتے جو خُدا چاہتا ہے۔

  21 لہٰذاہرطرح کی ناپاکی اور بُرے کاموں کو اپنی زندگی سے دُور کر کے حلیمی سے خُدا کے کلام کو قبول کرو جو تُمہارے دلوں میں بویا گیاجو تُمہاری رُوحوں کونجات دے سکتا ہے۔  22 کلام کو صرف سُننے والے نہ بنو جو اپنے آپ کو دھوکادیتے ہیںبلکہ اِس پر عمل کرنے والے بنو۔  23 جو کوئی کلام سُنتا اور اُس پر عمل نہیں کرتا اُس شخص کی مانند ہے جو اپنی ظاہری شکل آئینہ میں دیکھتا ہے۔  24 وہ اپنے آپ کو دیکھ کر چلاجاتا ہے اورفوراً بھُول جاتا ہے کہ کیسا تھا۔  25 مگر جو کوئی اِس کامل شریعت پر غورکرتا ہے جو اُسے آزاد کرتی ہے اور اُسے سُن کر بھولتا نہیں بلکہ عمل کرتا ہے۔ خُدا اُس کے ہر کام میں اُسے برکت دے گا۔

  26 اگر تُم میںسے کوئی یہ سمجھتا ہے کہ وہ خُداکا عبادت گُزار ہے اوراپنی زبان پر قابو نہ رکھے وہ اپنے آپ کو دھوکا دیتاہے۔ اُس کی دین داری بے معنی ہے  27 خُدا باپ کی نظر میں سچی اور بے عیب دین داری یہ ہے کہ یتیموں اور بیوائوںکی مصیبت میں اُن کی مددکرواور دُنیاکی آلودگی سے بچے رہو۔